ابنا:فرانس کے ٹی وی چینل نمبر چوبیس نے پیر کے دن اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ امریکہ کے مشرقی ساحلوں پر سینڈی طوفان کے ایک ہفتے بعد بھی طوفان سے متاثرہ علاقوں میں بہت سے لوگوں کو ابتر صورتحال کا سامنا ہے۔
فرانسیسی ٹی وی چینل چوبیس کی رپورٹ میں آیا ہے کہ امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں میں ایندھن کی قلت ہے ، بجلی بدستور منقطع ہے اور درجہ حرارت میں اچانک کمی آنے سے ان علاقوں کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
نیوجرسی کے ایک باشندے نے فرانسیسی ٹی وی چینل کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے پاس بدن پر موجود کپڑوں کے سوا کچھ باقی نہیں بچا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ ہم کب اپنے گھروں کو واپس جاسکیں گے۔
روئٹر نے بھی امریکہ کی وزارت توانائی کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ کے مشرقی ساحلوں میں تیرہ لاکھ سے زیادہ گھر اور دوکانیں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہیں۔
امریکہ کے مشرقی ساحلوں پر تباہ کن سینڈی طوفان کے ایک ہفتے کے بعد اور صدارتی انتخابات کے انعقاد سے چند گھنٹے قبل ابھی تک امریکی کمپنیاں اس علاقے کی بجلی بحال کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
دوسری جانب فرانسیسی ٹی وی چینل نمبر چوبیس نے آج امریکہ میں صدارتی انتخابات کے انعقاد کے موقع پر رپورٹ دی ہےکہ امریکہ کے موجودہ صدر باراک اوباما کے عہد صدارت کے دوران بہت سے امریکی شہری بے روزگاری کی وجہ سے بے گھر ہوچکے ہیں۔
اس رپورٹ میں مزید آيا ہے کہ اوباما کے وعدوں کے باوجود امریکی عوام اس ملک میں جاری اقتصادی بحران پر قابو نہ پانے کے باعث باراک اوباما کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکی پولیس لاس وگاس کے غریب علاقے میں گھر کے باشندوں کو اس گھر سے نکلنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اس علاقے کے ایک پولیس اہلکار کا کہنا ہےکہ اسے دس گھروں کو خالی کرانے کی ذمےداری سونپی گئی ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب گزشتہ تیس برسوں کے دوران لاس وگاس میں روزگار کے بہت سے مواقع پیدا ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود یہ علاقہ بھی امریکہ کے اقتصادی بحران کی زد سے محفوظ نہیں رہ سکا۔
لاس وگاس کے پڑوس میں واقع نوادا میں بے روزگاری کی شرح بارہ فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔
امریکہ کے اقتصادی بحران نے اس ملک کے بہت سے لوگوں کو خیراتی اداروں کا محتاج بنا دیا ہے۔ فرانس کے ٹی وی چینل نمبر چوبیس کی رپورٹ کے مطابق شمالی لاس وگاس میں خیراتی اداروں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اور اس شہر کے غریب لوگ ضروری اشیاء حاصل کرنے کے لۓ خیراتی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔
امریکہ میں سنہ دو ہزار آٹھ میں اقتصادی بحران کے شروع ہونے کے بعد مدد مانگنے والوں کی تعداد دوگنی ہوچکی ہے ۔ان میں سے اکثر افراد بے روزگار ہیں اور ان کو رہائش کی مشکل کا سامنا ہے۔
فرانس کے ٹی وی چینل نمبر چوبیس کی رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکہ میں چھیالیس ملین سے زیادہ افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگي گزار رہے ہیں۔
امریکی صدارتی انتخابات پر ڈاکٹر قندیل عباس سے گلشن نقوی کی گفتگو :
.......
/169
فرانسیسی ٹی وی چینل چوبیس کی رپورٹ میں آیا ہے کہ امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں میں ایندھن کی قلت ہے ، بجلی بدستور منقطع ہے اور درجہ حرارت میں اچانک کمی آنے سے ان علاقوں کے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگیا ہے۔
نیوجرسی کے ایک باشندے نے فرانسیسی ٹی وی چینل کے نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے پاس بدن پر موجود کپڑوں کے سوا کچھ باقی نہیں بچا ہے اور ہمیں معلوم نہیں کہ ہم کب اپنے گھروں کو واپس جاسکیں گے۔
روئٹر نے بھی امریکہ کی وزارت توانائی کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ امریکہ کے مشرقی ساحلوں میں تیرہ لاکھ سے زیادہ گھر اور دوکانیں بجلی نہ ہونے کی وجہ سے اندھیرے میں ڈوبی ہوئی ہیں۔
امریکہ کے مشرقی ساحلوں پر تباہ کن سینڈی طوفان کے ایک ہفتے کے بعد اور صدارتی انتخابات کے انعقاد سے چند گھنٹے قبل ابھی تک امریکی کمپنیاں اس علاقے کی بجلی بحال کرنے میں ناکام رہی ہیں۔
دوسری جانب فرانسیسی ٹی وی چینل نمبر چوبیس نے آج امریکہ میں صدارتی انتخابات کے انعقاد کے موقع پر رپورٹ دی ہےکہ امریکہ کے موجودہ صدر باراک اوباما کے عہد صدارت کے دوران بہت سے امریکی شہری بے روزگاری کی وجہ سے بے گھر ہوچکے ہیں۔
اس رپورٹ میں مزید آيا ہے کہ اوباما کے وعدوں کے باوجود امریکی عوام اس ملک میں جاری اقتصادی بحران پر قابو نہ پانے کے باعث باراک اوباما کو اپنی تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ امریکی پولیس لاس وگاس کے غریب علاقے میں گھر کے باشندوں کو اس گھر سے نکلنے پر مجبور کر رہی ہے۔ اس علاقے کے ایک پولیس اہلکار کا کہنا ہےکہ اسے دس گھروں کو خالی کرانے کی ذمےداری سونپی گئی ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب گزشتہ تیس برسوں کے دوران لاس وگاس میں روزگار کے بہت سے مواقع پیدا ہوئے تھے لیکن اس کے باوجود یہ علاقہ بھی امریکہ کے اقتصادی بحران کی زد سے محفوظ نہیں رہ سکا۔
لاس وگاس کے پڑوس میں واقع نوادا میں بے روزگاری کی شرح بارہ فیصد تک پہنچ چکی ہے ۔
امریکہ کے اقتصادی بحران نے اس ملک کے بہت سے لوگوں کو خیراتی اداروں کا محتاج بنا دیا ہے۔ فرانس کے ٹی وی چینل نمبر چوبیس کی رپورٹ کے مطابق شمالی لاس وگاس میں خیراتی اداروں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ اور اس شہر کے غریب لوگ ضروری اشیاء حاصل کرنے کے لۓ خیراتی اداروں کا رخ کرتے ہیں۔
امریکہ میں سنہ دو ہزار آٹھ میں اقتصادی بحران کے شروع ہونے کے بعد مدد مانگنے والوں کی تعداد دوگنی ہوچکی ہے ۔ان میں سے اکثر افراد بے روزگار ہیں اور ان کو رہائش کی مشکل کا سامنا ہے۔
فرانس کے ٹی وی چینل نمبر چوبیس کی رپورٹ کے مطابق اس وقت امریکہ میں چھیالیس ملین سے زیادہ افراد غربت کی لکیر کے نیچے زندگي گزار رہے ہیں۔
امریکی صدارتی انتخابات پر ڈاکٹر قندیل عباس سے گلشن نقوی کی گفتگو :
.......
/169